Just another WordPress.com site

Monthly Archives: April 2012

 1

یہ 1962  کی بات ہے، جب میں پیر کامل کی تلاش میں تھا۔ کراچی میں میرا ایک دوست رہتا تھا جو ایس ڈی او  (بی اینڈ آر) تھا اور ماڑی پور کیمپ نمبر 9 میں رہتا تھا۔ ان سے میں نے ذکر کیا کہ مجھے کسی پیر کامل کی تلاش ہے جسے میں اپنا مرشد بناؤں۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں ایک ایسے مرشد کامل کو جانتا ہوں۔ شاہ صاحب آپ کراچی آ جائیں میں ان سے آپ کی ملاقات کروا دوں گا۔ میں نے رخت سفر باندھا اور ٹرین میں بیٹھ کر کراچی کے لئے روانہ ہوا۔

بذریعہ ٹرین لاڑکانہ ایکسپریس میں روہڑی سے ہوتے ہوئے کراچی پہنچا تو مجھے لینے کے لئے میرا دوست اسٹیشن پرموجود تھا۔ ہم کیمپ نمبر9 پہنچے۔ وہاں ایک مسجد تھی ، اس مسجد کے امام غلام محمد صاحب اور دیگر چند دوستوں سے میری واقفیت ہو گئی۔میں نے ان لوگوں سے پیر کی تلاش کے بارے میں گفتگو کی تو انہوں نے مجھے پیر مٹھا ؒ کا تعارف کرایا اور بتایا کہ کل ہم لوگ پیر مٹھاؒ کے پاس رحمت پور شریف جائیں گے تو آپ کو بھی ساتھ لے جائیں گے۔
     مولوی صاحب اور ہم دیگر دو تین دوست سب مل کر بذریعہ لاڑکانہ ایکسپریس رات کے وقت لاڑکانہ پہنچے۔ ریلوے سٹیشن سے تانگے میں سوار ہو کر ہم سب ساتھی عشاء کی نمازسے تھوڑی دیر پہلے درگاہ رحمت پور شریف پہنچے۔ وہاں پر لوگ وضو کر رہے تھے انہوں نے بتایا کہ نمازعشاء کی ادائیگی کے لئے پیر مٹھاؒ تشریف لانے والے ہیں وہ عشاء کی نماز کے بعد کسی سے نہیں ملتے بلکہ نماز کے فورا بعد گھر تشریف لے جاتے ہیں، لہذا ابھی آپ کی ملاقات نہ ہو سکے گی۔جب پیرمٹھاؒکومیں نے پہلی مرتبہ دیکھاتومجھے خدایادآگیااورمیں نے سوچاکہ شایدمیں خواب دیکھ رہاہوں۔مجھے یقین ہوگیاکہ واقعی یہ اللہ کاکامل ولی ہے۔اوردل میں یہ ارادہ کرلیاکہ اس کواپنامرشدبناؤں گا۔
    حضرت نے نماز پڑھائی اور گھر تشریف لے گئے اور ہم لوگ نماز کے بعد لنگر خانے میں آ گئے جہاں پر فقیروں کی رہائش کے لئے کوارٹرز بنے ہوئے تھے اور وہیں پر رات قیام کیا۔

     صبح نماز فجر کے بعد پیر مٹھاؒ نے سوہنا سائیں سے فرمایا کہ مولوی صاحب ،نئے لوگوں کو ذکر کے لئے آگے لے آؤ۔ چنانچہ سوہنا سائیں نے ہمیں ذکر کے لئے پیر مٹھاؒ کے پاس پیش کیا،ذکر دلایا اور بیعت بھی کرایا اور پیر مٹھاؒ نے ذکر کرنے کا طریقہ سمجھایا۔ سوہنا سائیں نے ہمیں دائرے میں بٹھایا اور پھر حلقہ مراقبہ ہوا۔پیر مٹھاؒ کے فرمان پر سوہنا سائیں نے مراقبہ کرایا،سوہناسائیں کے بعدپیرمٹھاؒ نے مراقبہ کرایا اور دعا کے بعد پیر مٹھاؒ گھر تشریف لے گئے اور ہم لوگوں نے لنگر خانے میں ناشتہ کیا۔ناشتے کے بعد سوہنا سائیں نے سب کو اکٹھا کیا اور پوچھا کہ دوپہرکو کتنے لوگ لنگر کرنے والے ہیں؟ انہوں نے لنگر کھانے والوں کی گنتی کی۔ اس کے بعد ہم آرام کے لئے لیٹ گئے اور باقی سب لوگ اپنے اپنے کام سے چلے گئے۔ دوپہر کو جب لنگر کا وقت ہوا تو سوہنا سائیں نے سب لوگوں کو لنگر کرایا۔
    میں نے لوگوں سے پوچھا کہ پیر مٹھاؒ جنہیں مولوی صاحب کہ کر پکار رہے تھے، یہ کون ہیں؟لوگوں نے بتایا کہ یہ پیر مٹھاؒ کے خاص منظور نظر ہیں اور خلفاء میں ایک خصوصی مقام رکھتے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ سوہنا سائیں میں ایسی کیا خصوصیت ہے کہ اپنے پیر کی نگاہ میں ان کا مقام اتنا بلند ہے تو لوگوں نے بتایا کہ انہیں یہ خوبی اس لئے نصیب ہوئی ہے کہ یہ ہر وقت اپنے پیر کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں اور ہمیشہ اپنے مرشد کی رضا کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔

    اس پہلی ملاقات کے بعد میں پشاور واپس آگیا۔ اس کے بعد ہر گیارہویں شریف پر میں پشاور سے بذریعہ ٹرین درگاہ رحمت پور شریف حاضری دیتا رہا۔

    میں 1963 سے 1964 تک اسی طرح ہر گیارہویں شریف پر درگاہ رحمت پورپر حاضری دیتا رہا اور سوہنا سائیںؒ کو پیر مٹھاؒ کی خدمت میں پیش پیش پایا۔ میں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ سوہنا سائیں کی محبت اور پیرمٹھاؒ کی سوہنا سائیں پر شفقت قابل دید تھی۔ اپنے پیر کی طرف سے اس قدر شفقت ملنے کے باوجود جب پیر مٹھاؒ سوہنا سائیں کو بلاتے تو ان کا رنگ پیلا پڑ جاتا اور خوف سے جسم کانپنے لگتا۔ پیرمٹھاؒ فرماتے کہ “مولوی صاحب کتاب لے آؤ تو جب سوہنا سائیں کتاب لے کر آتے تو مارے خوف و ادب کے ان کے ہاتھ کانپ رہے ہوتے تھے۔ (پیر مٹھاؒ ، سوہنا سائیں سے کتاب پڑھوایا کرتے تھے۔ سوہنا سائیں تمام فقراء اور خلفاء کو درس دیا کرتے تھے)۔

     جس طرح حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے اپنا تن من دھن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا اور اس کو اپنی سعادت سمجھا، اسی طرح سوہنا سائیں نے بھی اپنا تن من دھن سب کچھ پیر مٹھاؒ پر قربان کر دیا۔اس چیز کا میں نے بغور مشاہدہ کیا ہے کہ سوہنا سائیں اپنی زمینوں کی تمام آمدنی پیر مٹھاؒ کے لنگر پر خرچ کردیا کرتے تھے اور لنگر کے جمیع انتظامات آپ خود سنبھالتے تھے۔ پیر مٹھا ؒ بازار کا گوشت پسند نہیں فرماتے تھے تو سوہنا سائیں اپنے ہاتھ سے بکرا ذبح کر کے پیر مٹھاؒ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔ درگاہ رحمت پور شریف کی تمام زمین بھی حضور سوہنا سائیںؒ نے خریدی تھی، وہاں گھر بنایا اور اس میں پیر مٹھاؒ کو رکھا اور ہمیشہ آپ کے قریب ہوتے تھے۔ اور بھی بہت سے لوگ وہاں موجود ہوتے تھے لیکن میں دیکھتا تھا کہ حضور سوہنا سائیںؒ سب لوگوں میں نمایاں ہوتے تھے۔ پیر مٹھاؒ کو آپ پر ہمیشہ فخر ہوتا تھا ۔ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہوتا تو پیر مٹھاؒ آپ سے ہی دریافت فرماتے اور مشورہ کرتے تھے اور آپ ہی سے پیر مٹھاؒ کی باتیں ہوتی تھیں۔ سوہنا سائیں کی ان تمام خوبیوں اور خدمات کے عوض میں آپ نے پیر مٹھاؒ کو اپنا قدر دان بنا لیا تھا چنانچہ پیر مٹھاؒ نے اپنی موجودگی میں تمام خلفاء کو آپ کے ماتحت کر دیا تھا۔غرضیکہ حضور سوہنا سائیں ہمہ تن پیر مٹھاؒ کی خدمت میں رہتے تھے۔ سوہنا سائیںؒ کے صدق ،اخلاص اور انتہائی محبت سے متاثر ہو کر پیر مٹھاؒ کی ایک دن یہ کیفیت ہو گئی کہ آپ نے یہ فرمایا کہ “پورے سندھ میں مجھے صرف ایک یہی جوان ملا ہے”۔ ” میرا جی چاہتا ہے کہ میں ایک سونے کا محل بناؤں اور اس میں سوہنا سائیںؒ کو بٹھا کر اس کا دیدار کرتا رہوں”۔
    اپنے پیر کی کامل اتباع کرنے اور خدمت گزاری کے باوجود سوہنا سائیں نہایت سعادت مندی کے ساتھ عرض کیا کرتے تھے کہ “حضور آپ کو تو اللہ نے بے نیاز بنایا ہے، آپ کو تو ان چیزوں کے ضرورت نہیں ہے لیکن ہمیں ضرورت ہے کہ آپ ہماری اس خدمت کو قبول فرمائیں تاکہ مرشد کے دل میں ہماری کچھ جگہ بنے اور ہم ہمیشہ پیرکے منظور نظر رہیں” ۔

    میرے ایک دیرینہ دوست عبدالسلام وزیر صاحب کراچی میں کسٹم آفیسر تھے، ہم دونوں اکٹھے درگاہ رحمت پور شریف حاضری دیا کرتے تھے۔ جب پیرمٹھاؒ کا وصال ہوا توعبدالسلام وزیر صاحب نے کراچی سے 1964 میں مجھے خط لکھا کہ پیر مٹھاؒ رحلت فرما گئے ہیں اور وہ تمام نعمتیں جو اُ ن کے پاس تھیں، سوہنا سائیں کو منتقل کر گئے ہیں اور سوہنا سائیں کو سند خلافت بھی تحریر فرمادی ہے، خط میں لکھا تھا کہ رحمت پور شریف کے حالات ٹھیک نہیں ہیں اس لئے سوہنا سائیں دین پور کچے کے علاقے میں تشریف لے گئے ہیں۔ اگر آپ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو رادھن اسٹیشن سے تانگے کے ذریعے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ میں دین پور شریف پہنچا اور سوہنا سائیں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو میں نے عرض کیا کہ حضور، اللہ کا شکر ہے کہ پیر مٹھاؒ نے ہمیں یتیم اورلاوارث نہیں چھوڑا بلکہ آپ جیسے عاشق کے حوالے کر گئے ہیں تو اس پرسوہنا سائیں نے فرمایا کہ “شاہ صاحب آپ کو بھی شاباش ہے کہ آپ باقاعدگی سے آتے جاتے رہے ہیں اوراب بھی آپ تشریف لائے ہیں، میں آپ کے لئے استقامات کی دعا کرتا ہوں”
    سوہنا سائیں کو جب فقیر پور شریف والی جگہ ملی تومجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ میں بھی دین پورسے سوہناسائیں کے قافلے کے ساتھ فقیر پور شریف آیا۔سوہنا سائیں کا گھر بن چکا تھا اور مسجد اور وضو خانہ وغیرہ کی تعمیر شروع ہو گئی تھی۔ میں نے اور عبدالسلام وزیر صاحب نے دیگر فقراء کے ساتھ تعمیر کے کام میں حصہ لیا اور خوب گارے کی ٹوکریاں اٹھانے کی سعادت بھی حاصل کی۔

   گرمی میں جب ہم فقیر پور شریف جاتے تو عشاء کی نماز اور مراقبے کے بعد زمین پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے تھے۔ جب زمین پر لیٹتے تھے تو نیچے سے زمین سے بھڑاس نکلتی تھی اور اوپر چادر لیتے تھے کیونکہ وہاں بڑے بڑے مچھرتھے جو رات بھر کاٹتے تھے۔ رفع حاجت کے لئے کھیتوں میں جاتے تھے اور پانی کا لوٹا ساتھ لے کر جایا کرے تھے۔ہم تو چند روز رہ کر واپس چلے آتے تھے لیکن سلام ہے ان لوگوں پر جو سوہنا سائیں کے ساتھ ہمیشہ اس گرمی اور مچھروں میں رہتے تھے۔ ایک پنکھا عبدالسلام وزیر صاحب سوہنا سائیں کے لئے کراچی سے لائے تھے جو مٹی کے تیل سے چلتا تھا۔